امریکا میں اے آئی کے ذریعے نقل کا بڑھتا رجحان

امریکا میں اے آئی کے ذریعے نقل کا بڑھتا رجحان: طلبہ کی پڑھائی، امتحانات اور تعلیمی نظام پر بڑا سوال

قلمکار: الطاف ندوی

امریکا کی یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے اسائنمنٹس اور تحقیقی کام مکمل کرنے کا رجحان تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی اور دوسرے اے آئی ٹولز کی مدد سے چند منٹوں میں مضمون، تحقیقی خاکہ، کمپیوٹر کوڈ اور سوالات کے جوابات تیار کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن جب طالب علم مشین سے تیار کردہ کام کو اپنی محنت ظاہر کرکے جمع کراتا ہے تو یہ سہولت تعلیمی بددیانتی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

مئی 2026 میں سائنسی جریدے Science میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق نے اس معاملے کو مزید نمایاں کیا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور کارنیل یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے امریکا کی 20 بڑی سرکاری تحقیقی جامعات کے 95,513 طلبہ کے جوابات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق، تقریباً ایک تہائی طلبہ اسائنمنٹس مکمل کرنے کے لیے باقاعدگی سے جنریٹو اے آئی استعمال کرتے تھے، جبکہ 9 فیصد نے اے آئی کے ذریعے نقل کرنے کی اطلاع دی۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ حقیقی ہے، اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکا کے 95 فیصد طلبہ اے آئی کے ذریعے نقل کرتے ہیں۔ تحقیق میں اے آئی کے عمومی استعمال اور اس کے غلط استعمال کے درمیان واضح فرق سامنے آیا۔ <Cite refs={["turn468182search0″,”turn468182search1″,”turn468182search2”]}/>

95 ہزار سے زائد طلبہ کی تحقیق نے کیا انکشاف کیا؟

یہ تحقیق اس لیے اہم ہے کہ اس میں صرف چند درجن یا سیکڑوں طلبہ کی رائے پر انحصار نہیں کیا گیا، بلکہ 20 سرکاری تحقیقی جامعات کے 95,513 طلبہ کے جوابات کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے ایسے سوالات کا طریقہ استعمال کیا جس سے طلبہ کے لیے حساس معاملات، مثلاً نقل، کے بارے میں جواب دینا نسبتاً آسان ہو سکے۔ اس تحقیق کے مطابق، تعلیمی شعبے اور طلبہ کے گروہوں کے لحاظ سے اے آئی کے استعمال اور غلط استعمال کی شرح میں نمایاں فرق پایا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر یونیورسٹی، ہر مضمون اور ہر طالب علم میں مسئلہ ایک جیسا نہیں۔ تاہم، جب لاکھوں طلبہ کی تعلیم سے وابستہ نظام میں اے آئی کی مدد سے کام تیار کرنے کی سہولت عام ہو رہی ہو تو اس کے غلط استعمال کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

محققین نے اس صورت حال کے جواب میں تمام اے آئی ٹولز پر یکساں پابندی لگانے کے بجائے امتحانات اور طلبہ کی صلاحیت جانچنے کے طریقوں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ <Cite refs={["turn468182search0″,”turn468182search5”]}/>

امریکی کالجوں میں اے آئی کا استعمال کتنی تیزی سے بڑھا؟

اے آئی کے استعمال کی وسعت سمجھنے کے لیے اپریل 2026 میں جاری ہونے والی Gallup اور Lumina Foundation کی رپورٹ بھی اہم ہے۔

اس سروے میں تقریباً 3,800 امریکی کالج طلبہ شامل تھے۔ نتائج کے مطابق، 57 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی کام میں کم از کم ہفتے میں ایک بار اے آئی استعمال کرتے تھے، جبکہ 21 فیصد نے روزانہ استعمال کی اطلاع دی۔ صرف 13 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنے تعلیمی کام میں اے آئی کبھی استعمال نہیں کرتے۔

سروے میں اے آئی کے عام استعمال میں مشکل مضامین سمجھنا، ہوم ورک کے جوابات کی جانچ، تحریر بہتر بنانا، لیکچر نوٹس کا خلاصہ تیار کرنا اور تحقیق کے لیے ابتدائی مدد حاصل کرنا شامل تھا۔

یہ اعداد و شمار اے آئی کے بڑھتے ہوئے تعلیمی استعمال کی تصویر پیش کرتے ہیں، لیکن انہیں نقل کی شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔ جائز استعمال اور غیر مجاز طور پر اے آئی سے پورا اسائنمنٹ تیار کروا کر اپنے نام سے جمع کرانے میں بنیادی فرق موجود ہے۔ <Cite refs={["turn468182search3″,”turn468182search4″,”turn468182search7”]}/>

طلبہ اے آئی کے ذریعے نقل کیسے کرتے ہیں؟

روایتی نقل میں طالب علم کسی کتاب، ویب سائٹ یا دوسرے طالب علم کی تحریر سے مواد لے کر اسے اپنے کام کے طور پر پیش کرتا تھا۔ اے آئی نے اس عمل کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔

اب طالب علم کسی چیٹ بوٹ کو موضوع بتا کر مکمل مضمون لکھوا سکتا ہے، پیچیدہ سوالات کے جوابات حاصل کرسکتا ہے یا تحقیقی کام کے لیے ایسا مواد تیار کروا سکتا ہے جو بظاہر منظم اور معیاری دکھائی دیتا ہو۔

اس کے بعد بعض طلبہ اس تحریر میں چند الفاظ تبدیل کرکے اسے اپنے نام سے جمع کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ طلبہ اے آئی سے تیار کردہ حوالہ جات اور دلائل کو پڑھے یا تصدیق کیے بغیر استعمال کرتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے مضامین میں اے آئی سے کوڈ تیار کروانا اور اسے اپنی صلاحیت کے طور پر پیش کرنا بھی تعلیمی دیانت داری سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

تاہم، ہر صورت میں اے آئی کا استعمال نقل نہیں ہوتا۔ اگر استاد نے اے آئی کی اجازت دی ہو، طالب علم اس کے استعمال کو ظاہر کرے اور ادارے کے اصولوں کی پابندی کرے تو یہ سیکھنے کا ایک مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طالب علم اپنی علمی محنت کا غلط تاثر دے یا واضح ہدایات کی خلاف ورزی کرے۔

کیا اے آئی کے استعمال سے طلبہ کی حقیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں؟

امریکی اساتذہ کی تشویش صرف نقل تک محدود نہیں۔ انہیں یہ سوال بھی درپیش ہے کہ اگر طالب علم ہر مضمون، ہر سوال اور ہر تحقیقی مرحلے میں اے آئی پر انحصار کرے تو وہ اپنی صلاحیتیں کس طرح ترقی دے گا؟

مثلاً، کوئی طالب علم اے آئی کی مدد سے ایک بہترین مضمون تیار کروا سکتا ہے، لیکن اگر وہ کلاس میں اس مضمون کے دلائل کی وضاحت نہ کر سکے تو استاد کے لیے اس کی حقیقی سمجھ کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح، ریاضی کے سوال کا جواب حاصل کرنا اور اسے خود حل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی پروگرام کا کوڈ حاصل کرنا اور اس کے کام کرنے کا طریقہ سمجھنا بھی ایک جیسا نہیں۔

یہ خدشات اہم ہیں، لیکن یہ دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی نے تمام طلبہ کی تنقیدی سوچ کو نقصان پہنچا دیا ہے۔ اصل اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اے آئی کس انداز میں استعمال ہو رہا ہے، طالب علم خود کتنا کام کرتا ہے اور تعلیمی ادارہ سیکھنے کو کس طرح جانچتا ہے۔

امریکی تعلیمی ادارے نقل روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی شناخت کرنا اساتذہ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بعض اساتذہ اور ادارے صرف گھر سے جمع کرائے گئے مضامین پر انحصار کرنے کے بجائے طلبہ کی صلاحیت جانچنے کے دوسرے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

کلاس روم میں تحریری امتحانات

نگرانی میں ہونے والے امتحانات سے استاد یہ دیکھ سکتا ہے کہ طالب علم مقررہ وقت میں اپنے الفاظ میں جواب لکھ سکتا ہے یا نہیں۔ اس سے طالب علم کی بنیادی معلومات اور خود مختارانہ سوچ جانچنے میں مدد ملتی ہے۔

تاہم، ہر مضمون میں ہاتھ سے لکھا ہوا امتحان بہترین حل نہیں۔ عملی منصوبوں، تحقیق اور کمپیوٹر پروگرامنگ کے لیے دوسرے طریقے بھی ضروری ہیں۔

زبانی امتحانات اور سوال جواب

اسائنمنٹ جمع کرانے کے بعد طالب علم سے اس کے دلائل، تحقیق اور نتائج کے بارے میں سوالات کیے جا سکتے ہیں۔ اس طریقے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ طالب علم نے اپنے کام کو واقعی سمجھا ہے یا نہیں۔

اسائنمنٹ کے مراحل کی نگرانی

اساتذہ ابتدائی خاکہ، مسودہ، حوالہ جات اور حتمی تحریر کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس سے طالب علم کے کام کے ارتقا اور تحقیق کے عمل کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

اے آئی کے استعمال کے واضح قواعد

اداروں کو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کن اسائنمنٹس میں اے آئی کی اجازت ہے، کہاں اس کا استعمال محدود ہے اور کن کاموں میں طالب علم کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا لازم ہے۔ واضح اصول طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے غیر یقینی صورت حال کم کر سکتے ہیں۔

یہ تمام طریقے مختلف اداروں میں مختلف انداز سے اختیار کیے جا سکتے ہیں؛ انہیں امریکا کی ہر یونیورسٹی میں نافذ شدہ یکساں پالیسی نہیں سمجھنا چاہیے۔

کیا اے آئی ڈیٹیکٹر نقل پکڑنے میں کامیاب ہیں؟

اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر دستیاب ہیں، لیکن ان کے نتائج کو قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض اوقات انسانی تحریر کو بھی غلطی سے اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ اے آئی سے مدد لے کر تبدیل کی گئی تحریر کی شناخت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔

اسی لیے صرف ڈیٹیکٹر کے نتیجے کی بنیاد پر طالب علم کو نقل کا مرتکب قرار دینا مناسب نہیں۔ اس کے بجائے اسائنمنٹ کے مسودوں، حوالہ جات، طالب علم کی زبانی وضاحت اور ادارے کے قواعد کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اصل مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ اے آئی استعمال ہوا یا نہیں، بلکہ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ طالب علم نے مطلوبہ علم اور مہارتیں حاصل کی ہیں یا نہیں۔

تعلیمی نظام کے سامنے اصل چیلنج

امریکی تعلیمی اداروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسے دور میں امتحان اور اسائنمنٹ کا نظام کیسے بنایا جائے جب مشین چند لمحوں میں بظاہر معیاری جواب تیار کر سکتی ہے۔

اگر صرف آخری تحریر کو نمبر دینے کا طریقہ برقرار رکھا جائے تو طالب علم کی اپنی محنت اور اے آئی کی مدد سے تیار کردہ مواد کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر طالب علم کو تحقیق، دلائل، عملی کام اور اپنے نتائج کی وضاحت کا موقع دیا جائے تو اس کی حقیقی صلاحیتوں کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ طلبہ کو اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال بھی سکھانا ضروری ہے۔ مستقبل کے روزگار میں اے آئی کی مہارت اہم ہو سکتی ہے، لیکن ٹول استعمال کرنا اور اپنے علم و صلاحیتوں کو اس کے ذریعے بہتر بنانا دو الگ مہارتیں ہیں۔

نتیجہ: سہولت کہیں تعلیم کا متبادل نہ بن جائے

امریکا میں اے آئی کے ذریعے نقل کے رجحان پر ہونے والی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ 95,513 طلبہ پر مبنی تحقیق میں 9 فیصد نے اے آئی کے ذریعے نقل کرنے کی اطلاع دی، جبکہ ایک الگ قومی سروے میں 57 فیصد کالج طلبہ نے تعلیمی کام کے لیے کم از کم ہفتہ وار اے آئی استعمال کرنے کی بات کی۔

یہ دونوں اعداد ایک ہی چیز نہیں بتاتے: ایک اے آئی کے عمومی استعمال سے متعلق ہے اور دوسرا اے آئی کے ذریعے نقل سے۔ لیکن دونوں مل کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت امریکی تعلیمی نظام میں ایک اہم تبدیلی لا چکی ہے۔

اس مسئلے کا حل نہ صرف پابندیوں میں ہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کو مکمل آزادی دینے میں۔ ضرورت ایسے نظام کی ہے جو اے آئی کے جائز استعمال کی حوصلہ افزائی کرے، غیر مجاز نقل کو روکے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ طالب علم محض اچھے جوابات جمع نہ کرائے بلکہ انہیں سمجھنے، ان پر غور کرنے اور اپنے علم کو عملی طور پر استعمال کرنے کے قابل بھی ہو۔

تحقیق کے بنیادی ذرائع

  • University of California, Berkeley — 95,513 طلبہ پر تحقیق کا خلاصہ۔ Center for Studies in Higher Education+1
  • Cornell University — اے آئی کے غلط استعمال اور امتحانی اصلاحات سے متعلق تحقیقی رپورٹ۔ Cornell Chronicle
  • Gallup اور Lumina Foundation — امریکی کالج طلبہ کے اے آئی استعمال کا سروے۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے