اینتھروپک(Anthropic) نے اے آئی کو حیاتیاتی تحقیق میں مزید طاقتور بنا دیا، کلاڈ نے 30 سے زائد ماڈلز کو 4 گنا تیز کر دیا
سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) نے بتایا ہے کہ اس کا اے آئی ماڈل کلاڈ (Claude) حیاتیاتی تحقیق میں ایسے سافٹ ویئر ماڈلز کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو پروٹین اور دیگر حیاتیاتی مالیکیولز کے مطالعے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق کلاڈ نے صرف چار ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 30 سے زائد اوپن سورس بایومیولیکیولر ماڈلز کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی رفتار اوسطاً تقریباً چار گنا بڑھ گئی۔
کلاڈ نے کیا کیا؟
اینتھروپک کے مطابق کلاڈ نے ان ماڈلز کے کوڈ کو اس طرح بہتر کیا کہ وہ کم کمپیوٹنگ وسائل استعمال کرتے ہوئے زیادہ تیزی سے کام کر سکیں۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ کلاڈ نے ایک ایسا Low-Memory Mode تیار کیا ہے جس کے ذریعے بڑے بایومیولیکیولر سسٹمز کی پیش گوئی ایک ہی NVIDIA GPU node پر کی جا سکتی ہے۔ ایسے سسٹمز میں ہزاروں امینو ایسڈز، نیوکلیوٹائڈز اور چھوٹے مالیکیولز شامل ہو سکتے ہیں۔
پروٹین تحقیق میں اے آئی کا بڑھتا ہوا کردار
پروٹین اور دوسرے حیاتیاتی مالیکیولز کی ساخت کو سمجھنا جدید طبی تحقیق کا ایک اہم حصہ ہے۔ محققین ایسی معلومات کو نئی ادویات، علاج اور حیاتیاتی تحقیق میں استعمال کرتے ہیں۔
اینتھروپک کے مطابق کلاڈ نے اوپن سورس پروٹین ڈیزائن اور ساخت کی پیش گوئی کرنے والے مختلف ماڈلز کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے نئے پروٹین ڈیزائن کرنے کے کام میں بھی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایک ملین ڈالر تک کے اے آئی کریڈٹس
اینتھروپک نے Adaptyv Bio کے ساتھ مل کر ایک پروٹین ڈیزائن مقابلے کا بھی اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس پروگرام میں 10 لاکھ ڈالر تک کے Claude credits اور 5,000 سے زیادہ ڈیزائنز کے لیے لیبارٹری میں عملی جانچ کی سہولت شامل ہوگی۔
اس کا مقصد محققین کو اے آئی کے ذریعے نئے پروٹین ڈیزائن کرنے اور پھر ان ڈیزائنز کو حقیقی لیبارٹری تجربات کے ذریعے جانچنے کا موقع دینا ہے۔
اینتھروپک سائنس کے لیے کلاڈ کو کیوں استعمال کر رہی ہے؟
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اینتھروپک اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کو صرف تحریر، پروگرامنگ اور عام معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے سائنسی تحقیق میں بھی استعمال کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
کمپنی نے جون 2026 میں Claude Science کے نام سے ایک اے آئی ورک بینچ متعارف کرایا تھا، جسے سائنس دان تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے اور مختلف سائنسی ٹولز کے ساتھ کام کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اگست میں اینتھروپک نے سائنس دانوں کے لیے 10,000 تک مفت یا رعایتی Claude نشستیں فراہم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔
حیاتیاتی تحقیق کے ساتھ حفاظتی اقدامات بھی
حیاتیات میں اے آئی کے استعمال کے ساتھ حفاظتی خدشات بھی موجود ہیں، کیونکہ یہی ٹیکنالوجی مفید طبی تحقیق کے ساتھ ساتھ غلط استعمال کے امکانات بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اسی وجہ سے اینتھروپک نے 17 ستمبر کو Life Sciences Verification Program شروع کیا، جس کے تحت حیاتیاتی تحقیق سے وابستہ اہل اداروں اور ماہرین کو زیادہ جدید Claude ماڈلز تک مخصوص حفاظتی نظام کے ساتھ رسائی دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے منشیات کی دریافت، تحقیقی حیاتیات، کلینیکل ڈویلپمنٹ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین کو زیادہ مخصوص اے آئی صلاحیتیں فراہم کی جائیں گی۔
اے آئی اور سائنسی تحقیق کا نیا دور
کلاڈ کی جانب سے درجنوں بایومیولیکیولر ماڈلز کو بہتر بنانا اس بات کی ایک مثال ہے کہ اے آئی اب صرف انسانوں کے سوالات کے جواب دینے یا مواد لکھنے تک محدود نہیں رہی۔
اے آئی ماڈلز اب تحقیقی کوڈ کو بہتر بنانے، سائنسی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، پیچیدہ ماڈلز کو تیز کرنے اور نئے تجربات کی تیاری میں مدد دینے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
تاہم اس شعبے میں انسانی محققین کی نگرانی اب بھی ضروری ہے۔ خود اینتھروپک بھی اپنے سائنسی پروگراموں میں حفاظتی اقدامات اور جانچ کے نظام پر زور دے رہی ہے۔