اے آئی (Ai) سے اسلامی معلومات حاصل کرنے میں حرج نہیں ہے مگر ؟
مصنوعی ذہانت (AI) نے معلومات کے حصول کو پہلے کے مقابلے میں بہت آسان بنا دیا ہے۔ اب کوئی بھی شخص چند سیکنڈ میں قرآن مجید کی کسی آیت کا ترجمہ، کسی حدیث کا مفہوم، اسلامی تاریخ کے کسی واقعے کی تفصیل یا کسی دینی اصطلاح کی وضاحت حاصل کرسکتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف اے آئی ٹولز اس سلسلے میں لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ تاہم، جب بات شرعی مسائل، حلال و حرام اور فتویٰ کی آتی ہے تو معاملہ محض معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا تعلق دینی ذمہ داری اور عملی زندگی سے بھی ہوتا ہے۔
اسی لیے اس موضوع پر بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: اسلامی معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی سے مدد لینا اور اس کے بتائے ہوئے شرعی حکم کو مستند فتویٰ سمجھ کر اس پر عمل کرنا دو الگ باتیں ہیں۔
اے آئی سے اسلامی معلومات حاصل کرنا کیوں مفید ہوسکتا ہے؟
اے آئی ایک معلوماتی معاون کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص نماز کے ارکان کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، کسی اسلامی اصطلاح کا مطلب جاننا چاہتا ہے، قرآن مجید کی کسی آیت کا ترجمہ سمجھنا چاہتا ہے یا اسلامی تاریخ کے کسی واقعے کا مختصر تعارف چاہتا ہے تو اے آئی اس کی مدد کرسکتا ہے۔
اسی طرح یہ کسی پیچیدہ دینی عبارت کو آسان زبان میں سمجھانے، عربی سے اردو ترجمہ کرنے، مختلف موضوعات پر ابتدائی مواد جمع کرنے اور مزید مطالعے کے لیے متعلقہ کتابوں یا حوالوں کی نشان دہی کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اے آئی کی فراہم کردہ معلومات لازماً درست نہیں ہوتیں۔ یہ کبھی حدیث کا غلط حوالہ دے سکتا ہے، کسی آیت کی تشریح میں سیاق و سباق کو نظر انداز کرسکتا ہے یا کسی فقہی مسئلے میں ایک رائے کو اس طرح پیش کرسکتا ہے جیسے اس پر سب کا اتفاق ہو۔
لہٰذا دینی معلومات حاصل کرتے وقت بھی معتبر کتابوں، مستند تفاسیر اور قابل اعتماد اہلِ علم کی رہنمائی سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
شرعی مسائل میں اے آئی پر اعتماد کرنے کا خطرہ
شرعی مسئلہ محض ایک سوال اور اس کے مختصر جواب کا نام نہیں۔ بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حکم پوچھنے والے کے حالات، نیت، الفاظ، سابقہ واقعات اور فقہی مسلک سے متعلق تفصیلات پر منحصر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، طلاق کے کسی معاملے میں صرف ایک جملہ پڑھ کر حتمی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی طرح وراثت کی تقسیم، مالی معاملات، قسم، نذر، عبادات کی بعض صورتوں اور حلال و حرام سے متعلق سوالات میں ایسی تفصیلات اہم ہوسکتی ہیں جنہیں سوال پوچھنے والا بیان نہ کرسکے یا اے آئی درست طور پر سمجھ نہ پائے۔
اگر اے آئی ان تفصیلات سے ناواقف ہو اور اس کے باوجود قطعی انداز میں جواب دے دے تو سوال کرنے والا غلط حکم کو درست سمجھ کر اس پر عمل کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عبادات، خاندانی معاملات یا لوگوں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ شرعی معاملات میں محض بظاہر مدلل جواب، عربی عبارت یا کسی کتاب کا حوالہ دیکھ کر مطمئن ہوجانا مناسب نہیں۔
علماء شرعی مسائل کے لیے اے آئی سے رجوع کرنے سے کیوں منع کرتے ہیں؟
بعض علماء نے اے آئی سے شرعی مسائل پوچھنے اور اس کے جواب کو فتویٰ سمجھ کر اس پر عمل کرنے سے منع کیا ہے۔ اس ممانعت کی بنیادی وجوہات میں غلط معلومات کا امکان، شرعی دلائل کی غیر درست تشریح، فقہی اختلافات کو نظر انداز کرنا اور سوال کے تمام متعلقہ حالات سے ناواقفیت شامل ہیں۔
اسلام میں شرعی رہنمائی کا معاملہ بہت اہم ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: ”اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔“
(سورۃ النحل: 43)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس معاملے کا علم نہ ہو، اس میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اے آئی ایک ٹیکنالوجی ہے؛ اسے بذاتِ خود مفتی یا شرعی اتھارٹی نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ نہ انسانی عالم کی طرح ذمہ داری قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس کا ہر جواب درست، مکمل اور متعلقہ فقہی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی خاص ممانعت کو تمام علماء کا متفقہ فیصلہ قرار نہ دیا جائے، جب تک اس کے لیے واضح اور مستند حوالہ موجود نہ ہو۔ اس موضوع پر آراء کی نوعیت اور دائرۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ احتیاط کی بنیاد پر اے آئی کے جواب کو فتویٰ نہ سمجھنا ایک الگ بات ہے، جبکہ ہر طرح کے دینی سوال میں اے آئی سے معلومات لینے کو مطلقاً ناجائز کہنا ایک وسیع تر دعویٰ ہے جس کے لیے مخصوص اہلِ علم کی مستند آراء پیش کرنا ضروری ہوگا۔
حدیث اور تفسیر کے معاملے میں خصوصی احتیاط
اے آئی سے حدیث یا تفسیر کے بارے میں سوال کرتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ کبھی یہ کسی حدیث کو غلط کتاب کی طرف منسوب کرسکتا ہے، حوالہ یا حدیث نمبر غلط بتا سکتا ہے یا کسی روایت کے درجۂ صحت کے بارے میں غیر درست معلومات دے سکتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید کی کسی آیت کی تشریح کرتے وقت مختلف تفاسیر، عربی زبان کے پہلوؤں اور آیت کے سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اے آئی کی آسان اور پُراعتماد زبان اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی تشریح بھی درست ہے۔
اس لیے اگر کسی حدیث کی صحت، اس کے مفہوم یا کسی آیت سے اخذ کیے جانے والے شرعی حکم کے بارے میں سوال ہو تو اصل کتاب، معتبر شرح یا مستند عالم سے تصدیق کرنی چاہیے۔ صرف اے آئی کے جواب کی بنیاد پر کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا یا قطعی شرعی حکم قرار دینا درست طرزِ عمل نہیں۔
کیا علماء اور محققین بھی اے آئی سے مدد لے سکتے ہیں؟
اے آئی کو ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کرنا اور اسے شرعی حکم کا حتمی فیصلہ کرنے والا سمجھنا ایک جیسی بات نہیں۔ اہلِ علم اور محققین اس سے ابتدائی معلومات جمع کرنے، عبارت کا ترجمہ کرنے، موضوعات کی درجہ بندی کرنے اور تحقیق کے ممکنہ مآخذ تلاش کرنے میں مدد لے سکتے ہیں، بشرطیکہ حاصل شدہ مواد کی اصل مصادر سے جانچ کی جائے۔
اسی طرح عام افراد بھی اسلامی موضوعات پر ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی سے سوال کرسکتے ہیں، لیکن جہاں جواب سے کوئی شرعی ذمہ داری متعین ہوتی ہو یا کسی اہم عملی فیصلے پر اثر پڑتا ہو، وہاں مستند عالم یا مفتی سے رجوع کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں، بلکہ اس کی حدود کو نظر انداز کرکے اسے دینی رہنمائی کا حتمی ذریعہ بنا لینا ہے۔
شرعی مسئلہ پیش آنے پر کیا کرنا چاہیے؟
اگر کسی شخص کو ایسا شرعی مسئلہ پیش آئے جس پر عمل کرنے کا فیصلہ کرنا ہو تو اسے چاہیے کہ:
- اپنے سوال کی مکمل تفصیلات کسی مستند عالم یا مفتی کے سامنے رکھے۔
- اگر اے آئی سے ابتدائی معلومات حاصل کی ہیں تو انہیں حتمی فتویٰ نہ سمجھے۔
- جواب میں دیے گئے قرآنی، حدیثی اور فقہی حوالوں کی تصدیق کرے۔
- اگر مسئلہ طلاق، وراثت، مالی حقوق یا کسی دوسرے حساس معاملے سے متعلق ہو تو صرف اے آئی کے جواب پر کوئی فیصلہ نہ کرے۔
- اگر مختلف علماء کی آراء سامنے آئیں تو ان کے دلائل اور اپنے حالات کے مطابق اہلِ علم سے وضاحت حاصل کرے۔
اس طریقے سے اے آئی سے معلومات حاصل کرنے کے ممکنہ فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں اور غلط جواب پر عمل کرنے کے خطرات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔
نتیجہ
اے آئی جدید دور کا ایک مفید معلوماتی ذریعہ ہے، لیکن اسے اسلامی علوم میں ایک مستند عالم یا مفتی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن مجید کے ترجمے، اسلامی اصطلاحات، تاریخ اور عمومی دینی معلومات کے لیے اس سے ابتدائی مدد لی جاسکتی ہے، مگر ان معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔
جہاں معاملہ کسی شرعی حکم کے تعین اور اس پر عمل کرنے کا ہو، وہاں اے آئی کے جواب کو فتویٰ سمجھ کر اختیار کرنا خطرات سے خالی نہیں۔ اسی بنا پر بعض علماء نے اس طریقے سے منع کیا ہے اور مستند اہلِ علم سے رجوع کرنے کی تاکید کی ہے۔
مختصر بات یہ ہے کہ اے آئی سے اسلامی معلومات حاصل کرنا اور اے آئی کے بتائے ہوئے شرعی حکم کو بلا تصدیق اپنا لینا الگ الگ امور ہیں۔ دینی معاملات میں احتیاط، مستند مآخذ اور اہلِ علم کی رہنمائی کو مقدم رکھنا چاہیے۔